سہارنپور ،09؍مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کانگریس نے لوک سبھا انتخابات کی پہلی لسٹ میں مغربی یوپی کی پارٹی کی مضبوط ترین مانے جانے والی سہارنپور سیٹ پر عمران مسعود کو امیدوار قرار انتخابی بگل پھونک دیا ہے۔اعداد و شمار کے لحاظ سے عمران کادعوی یہاں ایس پی۔بی ایس پی اتحاد سے زیادہ مضبوط ہے،البتہ مسلمانوں میں تقسیم کا ڈر ضرور رہے گا۔عمران پر کانگریس کے داؤ کو بھارتیہ جانتا پارٹی (بی جے پی) خود کے لئے اچھاماحول مان رہی ہے۔سہارنپور کو کانگریس کا مغربی یوپی کا مضبوط ترین ضلع تصور کیا جاتا ہے،اب بھی یہاں سے کانگریس کے دو رکن اسمبلی ہیں،2014 کی مودی لہر میں بھی بی جے پی کے سامنے ایس پی۔بی ایس پی جہاں ٹک نہیں پائی تھیں وہیں کانگریس نے سخت ٹکر دی اور دوسرے نمبر پر رہی تھی۔کانگریس سے عمران مسعود کو 407909 ووٹ ملے تھے، جبکہ بی جے پی کے راگھو ل کھنپال شرما 472499 ووٹ پاکر جیت گئے تھے،بی ایس پی کے جگدیش سنگھ رانا 235033 ووٹ پاکر تیسرے نمبر پر رہے تھے۔پچھلی بار بی ایس پی کا دلت مسلم اتحاد کا داؤ نہیں چل پایا تھا،جبکہ مسلم اکثریتی سہارنپور ضلع میں ایس پی کو بھی ناپسند کر دیا گیا تھا۔ایس پی کے شازان مسعود کو صرف 52765 ووٹ ہی ملے تھے اور ان کی ضمانت ضبط ہو گئی تھی،یہاں پر مسلمانوں کی پہلی پسند کانگریس بن گئی تھی۔اس بار ایس پی اور بی ایس پی میں اتحاد ہے،2014 میں ایس پی اور بی ایس پی کے امیدوار کو 287798 ووٹ ملے تھے،جو کانگریس کے عمران مسعود کے ایک لاکھ 120111 اور بی جے پی کے راگھو ل کھنپال شرما سے 184701 ووٹ کم تھے۔اس بار 2014 میں ایس پی سے الیکشن لڑے شازان مسعود اپنے کزن عمران مسعود کے ساتھ چلے گئے ہیں۔2017 کے اسمبلی انتخابات میں مغربی یوپی سے صرف سہارنپور میں دو سیٹ ملی تھی،بیہٹ سے نریش سینی اور سہارنپور دیہات سیٹ سے مسعود اختر ممبر اسمبلی منتخب ہوئے۔سہارنپور لوک سبھا سیٹ پر کانگریس نے اپنے لئے سینئر لیڈر عمران مسعود پر داؤ لگایا ہے جبکہ بی ایس پی۔ایس پی اتحاد کی جانب سے گوشت کاروباری فضل الرحمن کو انچارج بنایا گیا ہے،گوشت کاروباری میئر کا الیکشن بھی یہاں سے لڑے تھے لیکن دوسرے نمبر پر رہے تھے۔اس بار بی ایس پی سے ٹھاکر کی جگہ مسلم امیدوار رہے گا، ایسے میں کانگریس اور بی ایس پی میں سے مسلم کس کو پسند کریں گے، یہ وقت بتائے گا۔مسلمانوں میں تقسیم کا سیدھا فائدہ بی جے پی خود کے لئے مان رہی ہے۔2014 کے لوک سبھا انتخابات میں سہارنپور کے قدآور لیڈر اور نو بار ایم پی رہے رشید مسعود اپنے بھتیجے عمران مسعود کے ساتھ آئے ہیں۔بحث ہے کہ رشید مسعود نے لوک سبھا انتخابات عمران کو لڑانے کا بھروسہ دیا ہے اور 2022 کے اسمبلی انتخابات میں ان کے بیٹے شازان مسعود کو ایم ایل اے کا الیکشن عمران لڑائیں گے۔آزادی کے بعد پہلا انتخاب اپریل 1952 میں ہوا تھا،تب سہارنپور کی سیٹ سہارنپور ویسٹ اور مظفرنگر نارتھ کے نام سے جانی جاتی تھی۔اس وقت کانگریس کے اجیت پرساد جین نے جیت درج کی تھی،اس کے بعد کانگریس مسلسل آٹھ لوک سبھا انتخابات جیتی،سال 1952 سے 1971 تک کانگریس سے دو بار اجیت پرساد جین، ایک بار مہاویرتیاگی اور پانچ بار سندرلال نے کانگریس کا پرچم لہرایا۔اس کے بعد 1977 میں کانگریس کو جھٹکا لگا،جنتا پارٹی سیکولر سے مسلسل دو بار قاضی رشید مسعود جیتے،1984 میں گوجر لیڈر چودھری یشپال سنگھ نے کانگریس کو یہ سیٹ دلائی،اس کے بعد کانگریس نے سہارنپور سے ممبر پارلیمنٹ کا الیکشن نہیں جیتا،2014 میں کانگریس دوسرے نمبر پر ضرور رہی۔